عقیدۂ ختمِ نبوت ایمان کی جڑ

عقیدۂ ختمِ نبوت اسلام کا بنیادی اور قطعی عقیدہ ہے جو ایمان کی جڑ، دین کی تکمیل اور امتِ مسلمہ کی فکری حفاظت کی ضمانت ہے۔ اس مضمون میں قرآنِ کریم کی واضح آیات، احادیثِ نبویہ اور اجماعِ امت کے مضبوط دلائل کے ذریعے ثابت کیا گیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آسکتا۔ مزید برآں ضروریاتِ دین، توحید، نبوت، جنت و دوزخ اور حشر و نشر جیسے اہم عقائد کی جامع وضاحت پیش کی گئی ہے تاکہ ہر مسلمان اپنے ایمان کی حفاظت کر سکے۔

October 2, 2025

تمہید

اسلامی عقائد میں عقیدۂ ختمِ نبوت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہ صرف ایک نظری مسئلہ نہیں بلکہ ایمان کی جڑ، امتِ مسلمہ کی فکری حفاظت اور دین کی تکمیل کا اعلان ہے۔ اس عقیدے کے ذریعے نبوت کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہونے کا یقین حاصل ہوتا ہے، جس سے ہر دور کے فتنوں کے مقابلے میں واضح رہنمائی میسر آتی ہے۔

عقیدہ کیا ہے؟

لغوی طور پر عقیدہ دل میں پختہ یقین اور اعتقاد کو کہتے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں وہ بنیادی حقائق جن کی دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار ضروری ہو، اسلامی عقائد کہلاتے ہیں انہی میں سرِفہرست عقیدۂ ختمِ نبوت ہے۔

ضروریاتِ دین کیا ہیں؟

مصنف ’’بہارِ شریعت‘‘ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بھی ضروریاتِ دین کی تعریف کچھ اس طرح کرتے ہیں : ضروریاتِ دین وہ مسائلِ دین ہیں جن کو ہر خاص و عام جانتے ہوں، جیسے اللہ پاک کی وحدانیت، انبیا کی نبوت، جنت و نار، حشر و نشر وغیرہا، مثلاً یہ اعتقاد کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم النبیین ہیں، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کوئی نیا نبی نہیں ہوسکتا۔عوام سے مراد وہ مسلمان ہیں جو طبقہ علما میں نہ شمار کیے جاتے ہوں، مگر علما کی صحبت سے شرفیاب ہوں اور مسائلِ علمیہ سے ذوق رکھتے ہوں، نہ وہ کہ کوردہ(یعنی،کم آباد اور چھوٹا گاؤں، جسے کوئی نہ جانتا ہواور نہ ہی وہاں تعلیم کا کوئی سلسلہ ہو۔) اور جنگل اور پہاڑوں کے رہنے والے ہوں جو کلمہ بھی صحیح نہیں پڑھ سکتے، کہ ایسے لوگوں کا ضروریاتِ دین سے ناواقف ہونا اُس ضروری کو غیر ضروری نہ کر دے گا، البتہ ان کے مسلمان ہونے کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ ضروریاتِ دین کے منکر نہ ہوں اور یہ اعتقاد رکھتے ہوں کہ اسلام میں جو کچھ ہے حق ہے، ان سب پر اِجمالاً ایما ن لائے ہوں۔ (بہارِ شریعت،۱/172-173)

اللہ پاک کی وحدانیت

اللہ تعالیٰ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں؛ نہ ذات میں، نہ صفات میں، نہ افعال میں۔ وہی خالق، مالک اور معبودِ برحق ہے۔ اسی کی عبادت کی جاتی ہے اور اسی پر کامل بھروسا رکھا جاتا ہے۔

حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، باعثِ نزولِ سکینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ‘‘پڑھنے والوں پر نہ قبر میں وحشت ہوگی، نہ قبروں سے اٹھنے میں، اور نہ ہی قیامت میں۔ گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے سروں سے مٹی جھاڑتے ہوئے قبروں سے نکلیں گے اور ’’ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ‘‘ کہتے ہوئے جنت میں داخل ہوں گے۔ پھر وہ کہیں گے:

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي اَذْهَبَ عَنَّا الْحُزْنَ، اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُوْرٌ

یعنی، سب خوبیاں اللہ پاک کے لیے ہیں جس نے ہم سے غم دور فرمایا، بے شک ہمارا رب بخشنے والا، شکر قبول فرمانے والا ہے۔

(تاریخ بغداد، حدیث: 5380،10/264،احیاء علوم الدین،1/394، المعجم الاوسط، حدیث: 9478،6/480)

مزید عرض کیا گیا: ’’ا رسول اللہ! کون سا عمل سب سے افضل ہے؟‘‘ارشاد فرمایا:’’مرتے وقت تیری زبان اللہ پاک کے ذکر سے تر ہو۔‘‘(الاحسان بتر تیب صحیح ابن حبان، حدیث: 815،2/93)

منقول ہے :قیامت کے دن ایک شخص کو میزان پر لایا جائے گااور اس کے نامۂ اعمال کے(99)رجسٹر نکالے جائیں گے جن میں سے ہر رجسٹر پراس کے گناہ درج ہوں گے اور وہ رجسٹر تاحدّ ِ نگاہ وسیع ہوں گے،ان کو میزان میں رکھا جائے گا پھر انگلی کے پورے جتنا کاغذ کا ایک ٹکڑا نکالا جائے گا جس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حضرتِ محمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی رسالت کی گواہی لکھی ہو گی۔جب اس ٹکڑے کو ترازو کے دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گاتو وہ گناہوں پر غالب آجائے گااور اللہ عَزَّوَجَلَّ محض اس کلمہ لَآاِلٰہَ اِلاَّاللہ کی برکت سے اس کو معاف فرما کر جنت میں لے جانے کاحکم فرمادے گا۔(تفسیر طبری، حدیث: 14341،5/434۔ فردوس الاخبارللدیلمی، حدیث: 8472، 2/498)

انبیا علیہم السلام کی نبوت

نبوت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم اور مخصوص منصب ہے، جو اس کے برگزیدہ بندوں یعنی انبیا علیہم السلام کو عطا کیا جاتا ہے۔ نبی وہ مقدس ہستی ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے منتخب فرماتا ہے، اس پر وحی نازل کرتا ہے اور اسے دینِ حق پہنچانے کی ذمہ داری سونپتا ہے۔

انبیا علیہم السلام کی نبوت کا بنیادی مقصد انسانیت کو توحید، عبادتِ الٰہی، اخلاقِ حسنہ اور صحیح طرزِ زندگی کی طرف رہنمائی دینا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے پیغامبر، شریعت کے معلم اور ہدایت کے چراغ ہوتے ہیں۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:

’’وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ‘‘

ترجمہ کنز الایمان: او رہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اُس کی اطاعت کی جائے۔ انبیا علیہم السلام کی چند نمایاں خصوصیات یہ ہیں:

  • اللہ تعالیٰ کے منتخب اور محبوب بندے ہوتے ہیں۔

  • وحیِ الٰہی کے امین ہوتے ہیں۔

  • گناہوں سے محفوظ (معصوم) ہوتے ہیں۔

  • امت کے لیے بہترین نمونہ ہوتے ہیں۔

  • حق کی تبلیغ میں ثابت قدم رہتے ہیں۔

تمام انبیا علیہم السلام حق پر ہیں، ان کی تعلیمات کا سرچشمہ ایک ہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی وحی، ہر نبی نے اپنے زمانے کے لوگوں کو اللہ واحد کی عبادت کی دعوت دی۔

آخر میں یہ عقیدہ رکھنا ضروری ہے کہ نبوت کا سلسلہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مکمل ہوا، اور آپ صلی ا علیہ وآلہ وسلم آخری نبی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ یہی عقیدہ ایمان کا لازمی، قطعی اور غیر قابلِ انکار حصہ ہے۔

جنت و دوزخ

جنت اور دوزخ پر ایمان لانا اسلامی عقائد کا بنیادی حصہ ہے یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ ابدی ٹھکانے ہیں جہاں انسان کو اس کے ایمان اور اعمال کے مطابق جزا یا سزا دی جائے گی۔

اللہ پاک نے دوزخ کو شہوات سے ڈھانپ دیا ہے یعنی جہنم کی طرف جانے والا راستہ بظاہر بڑا خوشنما دکھائی دیتا ہے ، اس راہ پر چلنا بڑا آسان اور اس سے بچنا نہایت دشوار ہے، اس راہ میں قدم قدم پر نفس کے لیے راحتیں ہیں ، اسی وجہ سے نفس بھی اس راہ پر چلنے میں رغبت رکھتا ہے، لیکن بظاہر خوشنما نظر آنے والا یہ راستہ انسان کو جہنم کی طرف دھکیل دیتا ہے۔جس طرح دوزخ شہوات سے گِھری ہوئی ہے اسی طرح بہشت کو بھی اللہ پاک نے سختیوں اور تکالیف سے ڈھانپا ہے، جنت خود بہت حسین لیکن اس کی طرف جانے والی راہ بہت دشوار و کٹھن ہے۔

مفسرشہیرمحدث کبیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : دوزخ خود خطرناک ہے مگر اس کے راستے میں بہت سے بناوٹی پھول و باغات ہیں ، دنیا کے گناہ، بدکاریاں جو بظاہر بڑی خوشنما ہیں یہ دوزخ کا راستہ ہی تو ہیں ۔جنت بڑا بار دار باغ ہے مگر اس کا راستہ خار دار ہے جسے طے کرنا نفس پر گراں ہے۔ نماز، روزہ حج، زکوٰۃ، جہاد، شہادت جنت کا راستہ ہی تو ہیں ۔ طاعات پر ہمیشگی شہوت سے علیحدگی واقعی مشقت کی چیزیں ہیں ۔( مرآۃ المناجیح،۷‏ / ۵)

حشر و نشر

اسلامی عقیدہ میں حشر کا مطلب ہے کہ قیامت کے دن تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ کے حضور جمع کیا جانا اور ان کے اعمال کے مطابق جزا و سزا دی جانا۔ اور نشر کا مطلب ہےکہ اللہ پاک لوگوں کو قیامت والے دن دوبارہ زندہ فرمائے گا، پھر ان کے اعمال کا محاسبہ ہو گا اور انہیں اچھے برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، یہاں تک کہ جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں اپنے اپنے ٹھکانوں میں چلے جائیں گے۔ یہ سب (یعنی مرنا، قیامت کے دن زندہ ہونا، حشر بپا ہونا، اعمال کا محاسبہ اور جنت و دوزخ وغیرہ) ایسی باتیں ہیں جن پر ایمان لانا لازم و ضروری ہے اور ان میں سے کسی ایک کا بھی انکار کفر ہے۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ۔ (الزمر: 68)

ترجمۂ کنز الایمان: اور صور پھونکا جائے گا تو بے ہوش ہوجائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں مگر جسے اللہ چاہے پھر وہ دوبارہ پھونکا جائے گاجبھی وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہوجائیں گے ۔

یہ عقیدہ ایمان کے ستونوں میں شامل ہے اور انسان کو دنیا میں نیک اعمال کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

اسی طرح یہ اعتقاد کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے آخری نبی ہیں بھی ضروریاتِ دین میں شامل ہے۔

عقیدۂ ختم ِنبوت آیاتِ قرآنیہ کی روشنی میں

1- ارشادِ باری تَعَالٰی ہے:

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا (الاحزاب:40)

ترجَمۂ کنز العرفان:محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے آخر میں تشریف لانے والے ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا ہے۔

اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر کرتے ہو ئے مفتی سید نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یعنی نبوت آپ پر ختم ہوگئی،آپ کی نبوت کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی حتّٰی کہ جب حضرتِ عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام نازل ہوں گے تو اگرچہ نبوّت پہلے پاچکے ہیں مگر نزول کے بعد شریعت ِمحمدیہ پر عامل ہوں گے اور اسی شریعت پر حکم کریں گے اور آپ ہی کے قبلہ یعنی کعبہ شریف کی طرف منہ کرکے نماز پڑھیں گے،حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخر الانبیاء ہونا قطعی ہے،نصِ قرآنی بھی اس میں وارد ہے اور صحاح کی بکثرت اَحادیث تو حدِّ تواتر تک پہنچتی ہیں۔ ان سب سے ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے آخری نبی ہیں آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی اور کو نبوت ملنا ممکن جانے وہ ختمِ نبوت کا منکر،کافر اور خارج اَز اسلام ہے۔

2- اِرشادِ باری تَعَالٰی ہے:

اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا(پ۶،المائدہ:۳)

ترجَمۂ کنز العرفان:آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور میں نے تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔

نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دین کا تمام اور کامل ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ آپ آخری نبی ہیں کیونکہ آپ کے بعد کسی اور نبی کا آنا اسی وقت ممکن ہوتا کہ جب آپ کے دین اور آپ کی شریعت میں کوئی کمی ہوتی جس کو بعد میں آنے والا نبی پورا کرتا لیکن چونکہ آپ کا دین کامل اور تمام ہے اور اس کا نامکمل ہونا ممکن ہی نہیں ہے تو آپ کے بعد کسی نبی کا آنا بھی ممکن نہیں ہے۔

عقیدۂ ختم ِنبوت اَحادیثِ مبارکہ کی روشنی میں

1۔صحیح مسلم کی حدیثِ پاک ہے:

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَثَلِیْ وَمَثَلُ الْأَنْبِیَاءِ مِنْ قَبْلِیْ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی بُنْیَانًا فَأَحْسَنَہٗ وَأَجْمَلَہٗ اِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ مِنْ زَاوِیَۃٍ مِنْ زَوَایَاہُ فَجَعَلَ النَّاسُ یَطُوْفُوْنَ بِہٖ وَیَعْجَبُوْنَ لَہٗ وَیَقُوْلُوْنَ: ھَلَّا وُضِعَتْ ھٰذِہِ اللَّبِنَۃُ؟ قَالَ: فَأَنَا اللَّبِنَۃُ وَأَنَا خاتم النبیین (مسلم،ص966،حدیث:5961)

یعنی، حضرتِ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری اور مجھ سے پہلے انبیا کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے بہت ہی حسین وجمیل محل بنایا مگر اس کے کسی کونے میں ا یک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔لوگ اس کے گرد گھومنے اور اس پر اَش اَش کرنے لگے اور کہنے لگے کہ یہ ایک اینٹ کیوں نہ لگادی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں وہی (کونے کی آخری) اینٹ ہوں اور میں نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں۔

2۔حضورنبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

إِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلَارَسُوْلَ بَعْدِیْ وَلَانَبِیَّ (ترمذی،4/121،حدیث:2279)

یعنی، سِلسلۂ نبوت و رسالت منقطع کر دیا گیا ہے اور میرے بعد نہ کوئی رسول ہو گا اورنہ کوئی نبی۔

اجماعِ امت اور عقیدۂ ختمِ نبوت

صحابۂ کرام، تابعین، تبع تابعین، ائمۂ اربعہ ، تمام محدثین و مفسرین اور امتِ مسلمہ کا ہر دور میں اس بات پر غیر متزلزل اتفاق ہے کہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری نبی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ باطل ہے، یہ اجماع اس عقیدے کی قطعیّت کو مزید مضبوط کرتا ہے۔

عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت

ایمان کی بنیاد

یہ عقیدہ ایمان کے بنیادی ستونوں میں سے ہے۔ اس کے بغیر عقیدۂ رسالت مکمل نہیں ہوتا۔

دین کی تکمیل

ختمِ نبوت دراصل دینِ اسلام کی تکمیل اور حفاظت کا اعلان ہے۔

فتنوں سے حفاظت

جھوٹے مدعیانِ نبوت کے فتنوں سے بچاؤ کا مضبوط حصار۔

وحدتِ امت

امت کو ایک مرکزِ ہدایت پر متحد رکھتا ہے۔

عقیدۂ ختمِ نبوت اسلام کی فکری اساس، ایمان کی جڑ اور امت کی حفاظت کا ضامن ہے۔ قرآن، حدیث اور اجماعِ امت اس پر قطعی دلائل فراہم کرتے ہیں۔ اس عقیدے کی صحیح سمجھ اور پختگی ہر مسلمان کے لیے لازم ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح عقائد پر استقامت، ایمان کی حفاظت اور دینِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سچی محبت عطا فرمائے۔ آمین۔

Tags

No tags

Comments (0)

Login Required
Please login to add a comment and join the discussion.

No comments yet

Be the first to share your thoughts on this article!