تمہید
اسلامی عقائد میں عقیدۂ ختمِ نبوت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہ صرف ایک نظری مسئلہ نہیں بلکہ ایمان کی جڑ، امتِ مسلمہ کی فکری حفاظت اور دین کی تکمیل کا اعلان ہے۔ اس عقیدے کے ذریعے نبوت کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہونے کا یقین حاصل ہوتا ہے، جس سے ہر دور کے فتنوں کے مقابلے میں واضح رہنمائی میسر آتی ہے۔ عقیدہ کیا ہے؟ لغوی طور پر عقیدہ دل میں پختہ یقین اور اعتقاد کو کہتے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں وہ بنیادی حقائق جن کی دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار ضروری ہو، اسلامی عقائد کہلاتے ہیں انہی میں سرِفہرست عقیدۂ ختمِ نبوت ہے۔ ضروریاتِ دین کیا ہیں؟ مصنف ’’بہارِ شریعت‘‘ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بھی ضروریاتِ دین کی تعریف کچھ اس طرح کرتے ہیں : ضروریاتِ دین وہ مسائلِ دین ہیں جن کو ہر خاص و عام جانتے ہوں، جیسے اللہ پاک کی وحدانیت، انبیا کی نبوت، جنت و نار، حشر و نشر وغیرہا، مثلاً یہ اعتقاد کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم النبیین ہیں، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کوئی نیا نبی نہیں ہوسکتا۔عوام سے مراد وہ مسلمان ہیں جو طبقہ علما میں نہ شمار کیے جاتے ہوں، مگر علما کی صحبت سے شرفیاب ہوں اور مسائلِ علمیہ سے ذوق رکھتے ہوں، نہ وہ کہ کوردہ(یعنی،کم آباد اور چھوٹا گاؤں، جسے کوئی نہ جانتا ہواور نہ ہی وہاں تعلیم کا کوئی سلسلہ ہو۔) اور جنگل اور پہاڑوں کے رہنے والے ہوں جو کلمہ بھی صحیح نہیں پڑھ سکتے، کہ ایسے لوگوں کا ضروریاتِ دین سے ناواقف ہونا اُس ضروری کو غیر ضروری نہ کر دے گا، البتہ ان کے مسلمان ہونے کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ ضروریاتِ دین کے منکر نہ ہوں اور یہ اعتقاد رکھتے ہوں کہ اسلام میں جو کچھ ہے حق ہے، ان سب پر اِجمالاً ایما ن لائے ہوں۔ (بہارِ شریعت،۱/172-173) اللہ پاک کی وحدانیت اللہ تعالیٰ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں؛ نہ ذات میں، نہ صفات میں، نہ افعال میں۔ وہی خالق، مالک اور معبودِ برحق ہے۔ اسی کی عبادت کی جاتی ہے اور اسی پر کامل بھروسا رکھا جاتا ہے۔ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، باعثِ نزولِ سکینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ‘‘پڑھنے والوں پر نہ قبر میں وحشت ہوگی، نہ قبروں سے اٹھنے میں، اور نہ ہی قیامت میں۔ گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے سروں سے مٹی جھاڑتے ہوئے قبروں سے نکلیں گے اور ’’ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ‘‘ کہتے ہوئے جنت میں داخل ہوں گے۔ پھر وہ کہیں گے: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي اَذْهَبَ عَنَّا الْحُزْنَ، اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُوْرٌ یعنی، سب خوبیاں اللہ پاک کے لیے ہیں جس نے ہم سے غم دور فرمایا، بے شک ہمارا رب بخشنے والا، شکر قبول فرمانے والا ہے۔ (تاریخ بغداد، حدیث: 5380،10/264،احیاء علوم الدین،1/394، المعجم الاوسط، حدیث: 9478،6/480) مزید عرض کیا گیا: ’’ا رسول اللہ! کون سا عمل سب سے افضل ہے؟‘‘ارشاد فرمایا:’’مرتے وقت تیری زبان اللہ پاک کے ذکر سے تر ہو۔‘‘(الاحسان بتر تیب صحیح ابن حبان، حدیث: 815،2/93) منقول ہے :قیامت کے دن ایک شخص کو میزان پر لایا جائے گااور اس کے نامۂ اعمال کے(99)رجسٹر نکالے جائیں گے جن میں سے ہر رجسٹر پراس کے گناہ درج ہوں گے اور وہ رجسٹر تاحدّ ِ نگاہ وسیع ہوں گے،ان کو میزان میں رکھا جائے گا پھر انگلی کے پورے جتنا کاغذ کا ایک ٹکڑا نکالا جائے گا جس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حضرتِ محمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی رسالت کی گواہی لکھی ہو گی۔جب اس ٹکڑے کو ترازو کے دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گاتو وہ گناہوں پر غالب آجائے گااور اللہ عَزَّوَجَلَّ محض اس کلمہ لَآاِلٰہَ اِلاَّاللہ کی برکت سے اس کو معاف فرما کر جنت میں لے جانے کاحکم فرمادے گا۔(تفسیر طبری، حدیث: 14341،5/434۔ فردوس الاخبارللدیلمی، حدیث: 8472، 2/498) انبیا علیہم السلام کی نبوت نبوت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم اور مخصوص منصب ہے، جو اس کے برگزیدہ بندوں یعنی انبیا علیہم السلام کو عطا کیا جاتا ہے۔ نبی وہ مقدس ہستی ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے منتخب فرماتا ہے، اس پر وحی نازل کرتا ہے اور اسے دینِ حق پہنچانے کی ذمہ داری سونپتا ہے۔ انبیا علیہم السلام کی نبوت کا بنیادی مقصد انسانیت کو توحید، عبادتِ الٰہی، اخلاقِ حسنہ اور صحیح طرزِ زندگی کی طرف رہنمائی دینا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے پیغامبر، شریعت کے معلم اور ہدایت کے چراغ ہوتے ہیں۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:’’
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ‘‘ ترجمہ کنز الایمان: او رہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اُس کی اطاعت کی جائے۔ انبیا علیہم السلام کی چند نمایاں خصوصیات یہ ہیں:-
اللہ تعالیٰ کے منتخب اور محبوب بندے ہوتے ہیں۔ -
وحیِ الٰہی کے امین ہوتے ہیں۔ -
گناہوں سے محفوظ (معصوم) ہوتے ہیں۔ -
امت کے لیے بہترین نمونہ ہوتے ہیں۔ -
حق کی تبلیغ میں ثابت قدم رہتے ہیں۔
Comments (0)
Please login to add a comment and join the discussion.
No comments yet
Be the first to share your thoughts on this article!